المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا يُنْهَى عَنْهُ أَنْ يَتْبَعَ الْجَنَازَةَ باب: جنازے کے ساتھ لے جانے سے منع کی گئی چیزوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 821
قَالَ أَبُو يَعْلَى : قُرِئَ عَلَى بِشْرٍ هُوَ ابْنُ الْوَلِيدِ ، أَخْبَرَكُمْ أَبُو يُوسُفَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَرَّرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ نَهَى أَنْ يَتْبَعَ الْمَيِّتَ صَوْتٌ ، أَوْ نَارٌ .ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”اس بات سے سختی سے منع فرمایا ہے کہ میت (کے جنازے) کے پیچھے کوئی آواز (یعنی نوحہ و ماتم، بین یا بلند آواز سے پکارنا وغیرہ) ہو، اور نہ ہی اس کے ساتھ آگ (جیسے مشعلیں، انگیٹھیاں یا آگ کے شعلے وغیرہ) لے جائی جائے“۔
اس روایت کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں عبد اللہ بن محرر نامی راوی موجود ہے جو محدثین کے نزدیک سخت ضعیف اور متروک الحدیث ہے۔