المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ تَقْدِيمِ الْإِمَامِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ باب: نمازِ جنازہ میں امام کو مقدم کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 820
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا بَكْرٌ حَدَّثَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَا يُصَلِّي عَلَى جَنَائِزِكُمْ أَحَدٌ غَيْرِي مَا دُمْتُ فِيكُمْ .ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب تک میں تمہارے درمیان موجود ہوں، میرے علاوہ کوئی اور تمہارے جنازوں کی نماز نہ پڑھائے۔“
اس حدیث کی سند میں محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ راوی کی وجہ سے کلام ہے، یہ روایت نبی کریم ﷺ کی ظاہری زندگی میں آپ ﷺ کی موجودگی میں کسی دوسرے کے نمازِ جنازہ پڑھانے کی ممانعت پر دلالت کرتی ہے تاکہ آپ ﷺ کی دعا اور شفاعت کی برکت اہل اسلام کو میسر آ سکے۔