المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ باب: جنازے کے لیے کھڑے ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 819
قَالَ عَبْدٌ : أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - إِذَا رَأَى جِنَازَةً قَامَ حَتَّى تُجَاوِزَهُ .
وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - إِذَا خَرَجَ فِي جِنَازَةٍ وَلَّى ظَهْرَهُ إِلَى الْمَقَابِرِ .
إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ ، وَهُوَ مَوْقُوفٌ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”وہ جب بھی کسی جنازے کو دیکھتے تو (اس کی تکریم میں) اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک کہ وہ جنازہ ان کے سامنے سے گزر نہ جاتا، اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ معمول تھا کہ جب وہ جنازے کے ساتھ (قبرستان) تشریف لے جاتے تو اپنی پشت قبروں کی جانب کر لیا کرتے تھے۔“
اس کی سند صحیح ہے اور یہ اثر موقوف ہے۔