المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَشْيِ مَعَ الْجَنَازَةِ وَالْقِيَامِ مَعَهَا إِلَى أَنْ تُدْفَنَ باب: جنازے کے ساتھ چلنے اور دفن ہونے تک کھڑے رہنے کا بیان۔
الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، حَدَّثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : مَنْ تَبِعَ جِنَازَةً فَلَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَتَّى يَرْجِعَ مِائَةُ أَلْفِ حَسَنَةٍ ، وَمَحْوُ مِائَةِ أَلْفِ سَيِّئَةٍ ، وَرَفْعُ مِائَةِ أَلْفِ دَرَجَةٍ ، فَإِنْ صَلَّى عَلَيْهَا وُكِّلَ بِهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ حَتَّى يَرْجِعَ ، وَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا اسْتَغْفَرُوا لَهُ حَتَّى يُبْعَثَ مِنْ قَبْرِهِ .
هَذَا حَدِيثٌ مَوْضُوعٌ .سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی جنازے کے ساتھ چلے، تو اس کے واپس لوٹنے تک اس کے اٹھنے والے ہر قدم کے بدلے اس کے لیے ایک لاکھ نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں، اس کے ایک لاکھ گناہ مٹا دیے جاتے ہیں اور اس کے ایک لاکھ درجات بلند کر دیے جاتے ہیں؛ پھر اگر وہ اس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھے تو اس پر ستر ہزار فرشتے مقرر کر دیے جاتے ہیں جو اس کی واپسی تک اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں، اور اگر وہ اس کی تدفین میں بھی شریک ہو تو وہ (فرشتے) اس کے لیے اس وقت تک مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں جب تک کہ اسے (قیامت کے دن) اس کی قبر سے دوبارہ نہ اٹھا لیا جائے۔“
یہ حدیث موضوع (من گھڑت) ہے۔