❮
❯
حدیث نمبر: 817
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمْرَانَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جِنَازَةٍ فَرَأَى نِسْوَةً ، فَقَالَ : أَتَحْمِلْنَهُ ؟ ، قُلْنَ : لَا ، قَالَ : أَتُدْلِينَهُ ؟ ، قُلْنَ : لَا ، قَالَ : فَارْجِعْنَ مَأْزُورَاتٍ غَيْرَ مَأْجُورَاتٍ .
ترجمہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک جنازے میں نکلے، آپ ﷺ نے وہاں چند عورتوں کو دیکھا تو دریافت فرمایا: ”کیا تم جنازہ اٹھاؤ گی؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم اسے قبر میں اتارو گی؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پھر تم گناہوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے واپس چلی جاؤ، تمہیں کوئی اجر و ثواب نہیں ملے گا۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند میں حارث بن زیاد نامی راوی کی وجہ سے ضعف پایا جاتا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجنائز / حدیث: 817
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :صحيح. »
«أخرجه سنن ابن ماجه برقم: 1578، وأخرجه فتح الباري برقم: 1، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1940»