المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَشْيِ مَعَ الْجَنَازَةِ وَالْقِيَامِ مَعَهَا إِلَى أَنْ تُدْفَنَ باب: جنازے کے ساتھ چلنے اور دفن ہونے تک کھڑے رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 816
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : أَوْصَى أَبُو هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : إِذَا أَنَا مُتُّ ، فَلَا تَضْرِبُوا عَلَيَّ فُسْطَاطًا ، وَلَا تَتْبَعُونِي بِنَارٍ ، وَأَسْرِعُوا بِي .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام عبدالرحمن سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے (اپنی وفات کے وقت) یہ وصیت فرمائی: ”جب میں وفات پا جاؤں تو میرے (جنازے یا قبر) پر کوئی خیمہ یا سائبان نصب نہ کرنا، اور نہ ہی آگ لے کر میرے جنازے کے پیچھے چلنا، اور مجھے (قبرستان کی طرف) لے جانے میں جلدی کرنا۔“
اس روایت کو امام ابوداؤد طیالسی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند قوی ہے۔