❮
❯
حدیث نمبر: 815
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدٌ مَوْلَى السَّائِبِ أَنَّهُ رَأَى ابْنَ عُمَرَ ، وَعُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَمْشِيَانِ أَمَامَ الْجِنَازَةِ بِأَعْلَى مَكَّةَ يَتَقَدَّمَانِ فَيَجْلِسَانِ ، فَإِذَا جَازَتْ بِهِمَا قَامَا .
ترجمہ

عبید مولیٰ السائب سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور عبید بن عمیر رحمہ اللہ کو مکہ مکرمہ کے بالائی علاقے میں ایک جنازے کے آگے چلتے ہوئے دیکھا، وہ دونوں جنازے سے آگے بڑھ جاتے اور بیٹھ جاتے، پھر جب جنازہ ان کے پاس سے گزر جاتا تو وہ دونوں کھڑے ہو جاتے۔
امام مسدد بن مسرہد رحمہ اللہ نے اس اثر کو روایت کیا ہے، جو جنازے کے آگے چلنے اور ضرورت پڑنے پر بیٹھ کر انتظار کرنے کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجنائز / حدیث: 815
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :صحيح لغيره. »
«أخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 6963، 6964، 6965، 6984، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 815، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 6317، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 11337، 11339، 11347، 11358، وأخرجه الطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 2753»