المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَشْيِ مَعَ الْجَنَازَةِ وَالْقِيَامِ مَعَهَا إِلَى أَنْ تُدْفَنَ باب: جنازے کے ساتھ چلنے اور دفن ہونے تک کھڑے رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 815
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدٌ مَوْلَى السَّائِبِ أَنَّهُ رَأَى ابْنَ عُمَرَ ، وَعُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَمْشِيَانِ أَمَامَ الْجِنَازَةِ بِأَعْلَى مَكَّةَ يَتَقَدَّمَانِ فَيَجْلِسَانِ ، فَإِذَا جَازَتْ بِهِمَا قَامَا .ترجمہ
عبید مولیٰ السائب سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور عبید بن عمیر رحمہ اللہ کو مکہ مکرمہ کے بالائی علاقے میں ایک جنازے کے آگے چلتے ہوئے دیکھا، وہ دونوں جنازے سے آگے بڑھ جاتے اور بیٹھ جاتے، پھر جب جنازہ ان کے پاس سے گزر جاتا تو وہ دونوں کھڑے ہو جاتے۔
امام مسدد بن مسرہد رحمہ اللہ نے اس اثر کو روایت کیا ہے، جو جنازے کے آگے چلنے اور ضرورت پڑنے پر بیٹھ کر انتظار کرنے کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔