المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَشْيِ مَعَ الْجَنَازَةِ وَالْقِيَامِ مَعَهَا إِلَى أَنْ تُدْفَنَ باب: جنازے کے ساتھ چلنے اور دفن ہونے تک کھڑے رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 814
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : إِنَّ اللهَ تَعَالَى يُحِبُّ الصَّمْتَ عِنْدَ ثَلَاثٍ : عِنْدَ تِلَاوَةِ الْقُرْآنِ ، وَعِنْدَ الزَّحْفِ ، وَعِنْدَ الْجِنَازَةِ .ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ تین مواقع پر خاموشی اختیار کرنے کو پسند فرماتا ہے: قرآنِ کریم کی تلاوت کے وقت، میدانِ جنگ میں دشمن کے مقابلے میں پیش قدمی کے دوران اور جنازے کے موقع پر۔“
اس کی سند میں ایک راوی مبہم (نامعلوم) ہے، جس کی وجہ سے فنی طور پر یہ سند ضعیف قرار پاتی ہے، البتہ ان مواقع پر سکوت و وقار برقرار رکھنے کی تائید دیگر شرعی نصوص سے ہوتی ہے۔