المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَشْيِ مَعَ الْجَنَازَةِ وَالْقِيَامِ مَعَهَا إِلَى أَنْ تُدْفَنَ باب: جنازے کے ساتھ چلنے اور دفن ہونے تک کھڑے رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 808
وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ أَوَّلَ مَا يُجَازَى بِهِ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ بَعْدَ مَوْتِهِ أَنْ يُغْفَرَ لِجَمِيعِ مَنْ تَبِعَ جِنَازَتَهُ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بلاشبہ مومن بندے کو اس کی موت کے بعد سب سے پہلا صلہ یہ دیا جاتا ہے کہ ان تمام لوگوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے جنہوں نے اس کے جنازے کی مشایعت کی (یعنی جو جنازے کے پیچھے چلے)۔“
اسے امام عبد بن حمید نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں مروان بن سالم متروک راوی ہے، اس لیے یہ روایت ضعیف ہے۔