المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَشْيِ مَعَ الْجَنَازَةِ وَالْقِيَامِ مَعَهَا إِلَى أَنْ تُدْفَنَ باب: جنازے کے ساتھ چلنے اور دفن ہونے تک کھڑے رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 807
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : إِنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : مَنْ وَافَقَ صِيَامُهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَعَادَ مَرِيضًا ، وَشَهِدَ جِنَازَةً ، وَأَعْتَقَ ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ .
807 \ 2 - [ ] تَابَعَهُ حَيْوَةُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمْرٍو الْخَوْلَانِيِّ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ قَيْسٍ ، أَخْرَجَهُ ابْنُ حِبَّانَ .ترجمہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص کا روزہ جمعہ کے دن کے موافق آ جائے، اور وہ اسی روز کسی مریض کی عیادت کرے، کسی جنازے میں شریک ہو، اور کسی کی گردن (غلامی سے) آزاد کرے، تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔“
حیوہ نے ابن ابی عمرو الخولانی کے واسطے سے ولید بن قیس سے اس کی متابعت کی ہے، اور اسے امام ابن حبان نے بھی روایت کیا ہے۔