المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَشْيِ مَعَ الْجَنَازَةِ وَالْقِيَامِ مَعَهَا إِلَى أَنْ تُدْفَنَ باب: جنازے کے ساتھ چلنے اور دفن ہونے تک کھڑے رہنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : إِنَّ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ عَادَ حَسَنًا ، وَعِنْدَهُ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - ... الْحَدِيثَ ، فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو : مَا تَقُولُ فِي الْمَشْيِ أَمَامَ الْجِنَازَةِ ؟ فَقَالَ : فَضْلُ الْمَاشِي خَلْفَهَا عَلَى الْمَاشِي أَمَامَهَا كَفَضْلِ الْمَكْتُوبَةِ عَلَى التَّطَوُّعِ . قَالَ : فَإِنِّي رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - يَمْشِيَانِ أَمَامَهَا ، فَقَالَ : إِنَّهُمَا كَرِهَا أَنْ يُحْرِجَا النَّاسَ .
رَوَى أَحْمَدُ مِنْهُ قِصَّةَ الْعِيَادَةِ فَقَطَّ ، دُونَ مَا فِي آخِرِهِ .عبداللہ بن یسار سے روایت ہے کہ سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کی جبکہ ان کے پاس سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف فرما تھے، تو عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ نے ان سے سوال کیا کہ جنازے کے آگے چلنے کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”جنازے کے پیچھے چلنے والے کی فضیلت آگے چلنے والے پر ایسی ہی ہے جیسے فرض نماز کی فضیلت نفل نماز پر ہوتی ہے۔“ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے تو سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کو جنازے کے آگے چلتے دیکھا ہے، اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ان دونوں حضرات نے (آگے چلنا اس لیے اختیار کیا کیونکہ وہ) اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ لوگوں کو کسی تنگی یا حرج میں مبتلا کر دیں۔“
امام احمد رحمہ اللہ نے اس روایت سے صرف عیادت کا قصہ بیان کیا ہے اور اس کے آخری حصے کو ذکر نہیں کیا۔