❮
❯
حدیث نمبر: 805
إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، حَدَّثَنَا مُطَّرِحُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ لِعَلِيٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - : أَخْبِرْنَا يَا أَبَا الْحَسَنِ عَنِ الْمَشْيِ مَعَ الْجِنَازَةِ ، أَيُّ ذَلِكَ أَفْضَلُ ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : وَاللهِ إِنَّ فَضْلَ الْمَاشِي خَلْفَهَا عَلَى الْمَاشِي أَمَامَهَا كَفَضْلِ الْمَكْتُوبَةِ عَلَى التَّطَوُّعِ . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : فَوَاللهِ مَا جَلَسْتُ مُنْذُ شَهِدْتُ جِنَازَةً شَهِدَهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - يَمْشِيَانِ أَمَامَهَا .
فَقَالَ : يَغْفِرُ اللهُ لَهُمَا ، إِنَّ خِيَارَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ثُمَّ اللهُ أَعْلَمُ الْخَيِّرَ أَيْنَ هُوَ ؟ وَلَئِنْ كُنْتَ رَأَيْتَهُمَا فَعَلَا ذَلِكَ لَقَدْ فَعَلَا وَهُمَا يَعْلَمَانِ أَنَّ فَضْلَ الْمَاشِي خَلْفَهَا عَلَى الْمَشْيِ أَمَامَهَا كَفَضْلِ الْمَكْتُوبَةِ عَلَى التَّطَوُّعِ ، كَمَا نَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ لَيْلَةً ، وَلَكِنَّهُمَا أَحَبَّا أَنْ يَنْبَسِطَ النَّاسُ ، وَكَرِهَا أَنْ يَتَضَايَقُوا ، وَقَدْ عَلِمَا أَنَّهُمَا يُقْتَدَى بِهِمَا . قَالَ : يَا أَبَا الْحَسَنِ ، أَخْبِرْنِي عَنْ حَمْلِ الْجِنَازَةِ ، أَوَاجِبٌ عَلَى مَنْ شَهِدَهَا ؟ قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : لَا ، وَلَكِنَّهُ خَيْرٌ ، مَنْ شَاءَ أَخَذَ ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ ، فَإِذَا كُنْتَ مَعَ جِنَازَةٍ فَقَدِّمْهَا بَيْنَ يَدَيْكَ ، وَاجْعَلْهَا نُصْبًا بَيْنَ عَيْنَيْكَ ، فَإِنَّمَا هِيَ مَوْعِظَةٌ ، وَتَذْكِرَةٌ ، وَعِبْرَةٌ ، فَإِنْ بَدَا لَكَ أَنْ تَحْمِلَهَا فَانْظُرْ مُؤَخَّرَ السَّرِيرِ الْأَيْسَرِ فَاجْعَلْهُ عَلَى مَنْكِبِكَ الْأَيْمَنِ ، فَإِذَا انْتَهَيْتَ إِلَى الْمَقْبَرَةِ فَقُمْ وَلَا تَقْعُدْ ، فَإِنَّكَ تَرَى أَمْرًا عَظِيمًا ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : أَخُوكَ أَخُوكَ ، كَانَ يُنَافِسُكَ فِي الدُّنْيَا ، وَيُشَاحُّكَ فِيهَا ، فَضَايَقَ فِي سُهُولَةِ الْأَرْضِ قُصُورًا ، أُدْخِلَ فِي قَبْرٍ تَحْتَ جَوْفِ قَبْرٍ مُحَرَّفٍ عَلَى جَنْبِهِ ، فَقُمْ وَلَا تَقْعُدْ حَتَّى تَشُنَّ عَلَيْهِ التُّرَابَ شَنًّا ، فَإِنْ لَمْ يَدَعْكَ النَّاسُ ، وَلَيْسُوا بِتَارِكِيكَ ، وَقَالُوا : مَا هَذَا وَاللهِ بِشَيْءٍ ، فَقُمْ وَلَا تَقْعُدْ حَتَّى يُدَلَّى فِي حُفْرَتِهِ وَإِنْ قَاتَلُوكَ قِتَالًا .
قُلْتُ : هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ بِمَرَّةٍ .
ترجمہ

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: ”اے ابو الحسن! ہمیں جنازے کے ساتھ چلنے کے متعلق بتائیے کہ ان میں سے کون سا طریقہ زیادہ فضیلت والا ہے؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! جنازے کے پیچھے چلنے والے کی فضیلت آگے چلنے والے پر ایسی ہی ہے جیسے فرض نماز کو نفلی عبادت پر فضیلت حاصل ہوتی ہے۔“ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! جب سے میں نے ایک ایسے جنازے میں شرکت کی ہے جس میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی شریک تھے، میں نے ان دونوں کو جنازے کے آگے چلتے ہوئے دیکھا ہے (تو یہ کیسے ممکن ہے؟)۔“ اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «يَغْفِرُ اللهُ لَهُمَا» ”اللہ ان دونوں کی مغفرت فرمائے“، بلا شبہ اپنے نبی ﷺ کے بعد اس امت کے بہترین افراد ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما ہی ہیں، پھر اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ خیر کہاں ہے؟ اگر آپ نے ان دونوں کو ایسا کرتے دیکھا ہے تو انہوں نے یہ عمل اس علم کے باوجود کیا کہ جنازے کے پیچھے چلنے کی فضیلت آگے چلنے پر بالکل اسی طرح ہے جیسے فرض کی نفل پر، جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ آنے والے کل سے پہلے رات ہوتی ہے، لیکن ان دونوں نے اس بات کو پسند کیا کہ لوگوں کے لیے وسعت و آسانی پیدا کریں اور ان پر تنگی کو ناپسند کیا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کے عمل کی اقتدا کی جاتی ہے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”اے ابو الحسن! مجھے جنازہ اٹھانے کے بارے میں بتائیں، کیا یہ حاضر ہونے والے پر واجب ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ کارِ خیر ہے، جو چاہے حصہ لے اور جو چاہے چھوڑ دے۔ جب تم جنازے کے ساتھ ہو تو اسے اپنے آگے رکھو اور اسے اپنی نگاہوں کے سامنے نصب العین بنا لو، کیونکہ یہ محض ایک نصیحت، یاد دہانی اور جائے عبرت ہے۔ پھر اگر تمہارا ارادہ اسے اٹھانے کا ہو تو چارپائی کے بائیں جانب کے پچھلے پائے کو اپنے دائیں کندھے پر رکھو۔ جب تم قبرستان پہنچ جاؤ تو کھڑے رہو اور اس وقت تک نہ بیٹھو جب تک تم ایک عظیم معاملہ نہ دیکھ لو۔ بلا شبہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”تمہارا بھائی، تمہارا بھائی؛ وہ دنیا میں تمہارا مقابلہ کرتا تھا اور اس کی حرص کرتا تھا، وہ زمین کی وسعتوں میں محلات کی تعمیر کے لیے تگ و دو کرتا تھا، (مگر اب) اسے پہلو کے بل ایک گڑھے کی تہہ میں قبر کے اندر داخل کر دیا گیا ہے۔“ پس تم کھڑے رہو اور اس وقت تک نہ بیٹھو جب تک تم اس پر اچھی طرح مٹی نہ ڈال دو۔ اگر لوگ تمہیں نہ چھوڑیں اور وہ تمہیں چھوڑنے والے نہیں ہیں، اور وہ کہیں کہ اللہ کی قسم اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے، تب بھی تم کھڑے رہو اور نہ بیٹھو یہاں تک کہ اسے اس کی قبر میں اتار دیا جائے، خواہ وہ اس بات پر تم سے جھگڑا ہی کیوں نہ کریں۔“
میں کہتا ہوں کہ یہ سند انتہائی ضعیف ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجنائز / حدیث: 805
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ بِمَرَّةٍ . »
«أخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2958، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 414، 698، 699، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 6969، وأحمد فى «مسنده» برقم: 765، 970، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 289، والبزار فى «مسنده» برقم: 480»