المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ غُسْلِ الْمَيِّتِ باب: میت کو غسل دینے کے احکام و مسائل کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الشَّامِيِّ ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا وَكَتَمَ عَلَيْهِ طَهَّرَهُ اللهُ تَعَالَى مِنْ ذُنُوبِهِ ، فَإِنْ كَفَّنَهُ كَسَاهُ اللهُ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنَ السُّنْدُسِ .سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی میت کو غسل دے اور (اس دوران ظاہر ہونے والے اس کے عیوب و نقائص کی) پردہ پوشی کرے، تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہوں سے (ایسا) پاک و صاف فرما دے گا (جیسے وہ گناہوں سے بالکل مبرا ہو گیا ہو)، اور اگر وہ اسے کفن بھی پہنائے تو اللہ عزوجل اسے جنت کے نفیس اور باریک ریشم کے لباس سے سرفراز فرمائے گا۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ موصلی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں ابو غالب نامی راوی کے حفظ پر محدثین نے کلام کیا ہے، تاہم میت کی پردہ پوشی اور غسل و تکفین کے متعلق اسی مفہوم کی دیگر روایات مستدرک حاکم اور سننِ بیہقی میں بھی موجود ہیں جو اس فضیلت کی تائید کرتی ہیں۔