المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ غُسْلِ الْمَيِّتِ باب: میت کو غسل دینے کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 797
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - عَنِ الْغُسْلِ مِنْ غُسْلِ الْمَيِّتِ ؟ فَقَالَ : لَقَدْ نَجَّسْتُمْ صَاحِبَكُمْ إِذًا .
797 \ 2 - [2] وَحَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : يَكْفِي مِنْهُ الْوُضُوءُ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عطاء رحمہ اللہ نے ان سے میت کو غسل دینے کی وجہ سے (غسل دینے والے پر) غسل کے وجوب کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”اگر ایسا ہے تو اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ تم نے اپنے اس ساتھی (میت) کو ناپاک قرار دے دیا ہے“
اور اسی روایت کے دوسرے طریق میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اس (میت کو غسل دینے) کی وجہ سے محض وضو کر لینا ہی کافی ہے۔“