المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ ثَوَابِ مَنْ مَاتَ لَهُ وَلَدٌ باب: اولاد کی وفات پر صبر کرنے والے کے اجر کا بیان۔
حدیث نمبر: 794
وبهذا الإسناد : وكان رجل من الأنصار يجالس النبي - صلى الله عليه وسلم - ومعه ابن له خماسي ، فمات ، فجزع عليه ، فقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : يسرك أن لا تأتي بابا من أبواب الجنة إلا وجدته يدعوك إليه ؟ قال : نعم ، قال - صلى الله عليه وسلم - : فهو كما أقول لك .ترجمہ
794 - اور اسی سند کے ساتھ (مروی ہے کہ) : انصار میں سے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے اور ان کے ساتھ ان کا ایک پانچ برس کا بیٹا بھی ہوتا تھا ، پھر اس بچے کا انتقال ہو گیا تو وہ اس کے غم میں شدید غمگین رہنے لگے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان سے ) فرمایا : ” کیا تمہیں یہ بات خوش کرتی ہے کہ تم جنت کے جس دروازے پر بھی جاؤ ، تو اسے (اپنے بچے کو) اسی دروازے پر پاؤ کہ وہ تمہیں اپنی طرف بلا رہا ہو ؟ “ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو یہ ویسے ہی ہے جیسے میں تم سے کہہ رہا ہوں “ ۔