المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ ثَوَابِ مَنْ مَاتَ لَهُ وَلَدٌ باب: اولاد کی وفات پر صبر کرنے والے کے اجر کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ أَبِي بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَعَهَّدُ الْأَنْصَارَ ، وَيَعُودُهُمْ ، وَيَسْأَلُ عَنْهُمْ ، فَبَلَغَنَا أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ مَاتَ لَهَا ابْنٌ فَجَزِعَتْ عَلَيْهِ ، فَأَتَاهَا - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَهَا بِتَقْوَى اللهِ تَعَالَى وَالصَّبْرِ . فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي امْرَأَةٌ رَقُوبَةٌ لَا أَلِدُ ، وَلَمْ يَكُنْ لِي وَلَدٌ غَيْرَهُ . فَقَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : الرَّقُوبُ الَّتِي يَبْقَى وَلَدُهَا ، ثُمَّ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَا مِنِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ وَلَا مُسْلِمَةٍ يَمُوتُ لَهَا ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ إِلَّا يُدْخِلُهُمَا الْجَنَّةَ . فَقَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ ، وَاثْنَانِ ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : وَاثْنَانِ .سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ انصار کی خبر گیری فرماتے، ان کے مریضوں کی عیادت کرتے اور ان کے حالات دریافت فرمایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ کو خبر پہنچی کہ انصار کی ایک عورت کا بیٹا فوت ہو گیا ہے اور وہ اس کی وفات پر بہت بے قرار ہے۔ آپ ﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے اور اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور صبر کرنے کی تلقین فرمائی۔ اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں ایسی عورت ہوں جس کے ہاں اولاد نہیں ہوتی اور اس کے سوا میرا کوئی بچہ نہ تھا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اصل رقوب وہ عورت ہے جس کے بچے زندہ رہیں۔“ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس مسلمان مرد یا مسلمان عورت کے تین بچے فوت ہو جائیں، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرے والد آپ پر قربان ہوں، اگر دو بچے فوت ہوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو بچوں پر بھی یہی بشارت ہے۔“
اس روایت کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔