المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ أَحْوَالِ الْمُحْتَضَرِ باب: حالتِ نزع والے شخص کے احوال کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا حُسَامٌ هُوَ ابْنُ مِصَكٍّ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ : أَنَّهُ غَزَا خُرَاسَانَ ، فَأَقَامَ سَنَتَيْنِ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَلَا يَجْمَعُ ، فَحَضَرَتِ ابْنَ عَمٍّ لَهُ الْوَفَاةُ فَذَهَبَ يَعُودُهُ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَلَهُ ذُنُوبٌ يُكَافَأُ بِهَا فِي الدُّنْيَا ، وَتَبْقَى عَلَيْهِ بَقِيَّةٌ يُشَدَّدُ بِهَا عَلَيْهِ عِنْدَ الْمَوْتِ ، وَلَا أُحِبُّ مَوْتًا كَمَوْتِ الْحِمَارِ ، يَعْنِي الْفَجْأَةَ .سیدنا علقمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے خراسان کے علاقے میں جہاد کیا اور وہاں دو سال قیام فرمایا، اس دوران وہ (قصر کرتے ہوئے) دو رکعتیں ہی ادا کرتے رہے اور نمازوں کو جمع نہیں کرتے تھے، پھر ان کے ایک چچا زاد بھائی کی وفات کا وقت قریب آیا تو وہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور وہاں یہ حدیث بیان کی کہ مجھے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کوئی مومن ایسا نہیں ہے مگر اس کے کچھ گناہ ہوتے ہیں جن کا بدلہ (بطور کفارہ) اسے دنیا ہی میں دے دیا جاتا ہے، اور اگر اس پر گناہوں کا کچھ حصہ باقی رہ جائے تو موت کے وقت اس پر (نزع کی) سختی کی جاتی ہے (تاکہ وہ پاک ہو جائے)، اور میں گدھے کی موت جیسی موت کو پسند نہیں کرتا“، یعنی اچانک مر جانا۔
اس روایت کی سند میں حسام بن مصک اور ابو معشر نامی راویوں کے ضعف کی وجہ سے کلام ہے، تاہم مصائب و تکالیف اور موت کی سختی کے ذریعے گناہوں کی معافی کا مفہوم دیگر مستند احادیث سے ثابت ہے۔