المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ أَحْوَالِ الْمُحْتَضَرِ باب: حالتِ نزع والے شخص کے احوال کا بیان۔
حدیث نمبر: 776
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : مُعَالَجَةُ مَلَكِ الْمَوْتِ أَشَدُّ مِنْ أَلْفِ ضَرْبَةٍ بِالسَّيْفِ ، وَمَا مِنْ مُؤْمِنٍ يَمُوتُ إِلَّا وَكُلُّ عِرْقٍ مِنْهُ يَأْلَمُ عَلَى حِدَةٍ .
قَالَ الْحَارِثُ : أَحْسَبُهُ قَالَ : وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَإِنَّ الْكَرْبَ عَظِيمٌ ، وَالْهَوْلَ شَدِيدٌ ، وَأَقْرَبُ مَا يَكُونُ عَدُوُّ اللهِ مِنْهُ تِلْكَ السَّاعَةَ .ترجمہ
سیدنا عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ملک الموت کا (روح قبض کرنے کے لیے) سختی کرنا تلوار کے ایک ہزار واروں سے بھی زیادہ شدید ہے، اور جو بھی مومن فوت ہوتا ہے، اس کے جسم کی ہر ایک رگ الگ الگ درد و تکلیف محسوس کرتی ہے۔“
امام حارث فرماتے ہیں کہ میرا گمان ہے آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا: ”اور اسے جنت کی خوشخبری سناؤ، کیونکہ (موت کی) بے چینی بہت بڑی اور اس کی ہولناکی نہایت شدید ہوتی ہے، اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب اللہ کا دشمن (شیطان) انسان کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔“