المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ أَحْوَالِ الْمُحْتَضَرِ باب: حالتِ نزع والے شخص کے احوال کا بیان۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ الْأَسَدِيِّ ، عَنْ سَلْمِ بْنِ عَطِيَّةَ الْفُقَيْمِيِّ ، قَالَ : عَادَ سَلْمَانُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - مَرِيضًا ، فَرَآهُ قَدِ اشْتَدَّ فِي نَزْعِهِ فَقَالَ : يَا مَلَكَ الْمَوْتِ ، ارْفُقْ بِهِ ، فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ . فَقَالَ الرَّجُلُ : إِنَّهُ يَقُولُ : إِنِّي بِكُلِّ مُؤْمِنٍ رَفِيقٌ .سلم بن عطیہ الفقیمی روایت کرتے ہیں کہ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ایک بیمار کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، تو آپ نے دیکھا کہ اس پر نزع کی کیفیت اور جاں کنی کی شدت طاری ہے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے (ملک الموت کو مخاطب کر کے) فرمایا: «يَا مَلَكَ الْمَوْتِ ، ارْفُقْ بِهِ ، فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ» ”اے موت کے فرشتے! اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ فرما کیونکہ یہ ایک صاحبِ ایمان شخص ہے۔“ تب اس بیمار شخص نے بتایا کہ وہ (فرشتہ) کہہ رہا ہے: ”یقیناً میں ہر مومن کے ساتھ نرمی اور رفق ہی سے پیش آتا ہوں۔“
اس اثر کی سند حسن ہے، اسے امام ابن ابی شیبہ نے اپنی المصنف (حدیث: 34327) میں اور امام احمد نے کتاب الزہد (حدیث: 187) میں روایت کیا ہے۔