❮
❯
حدیث نمبر: 773
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَرَأَيْتُ بِهِ الْمَوْتَ ، فَقُلْتُ : هَيْجٌ ، هَيْجٌ :
مَنْ لَا يَزَالُ دَمْعُهُ مُصَنَّعًا فَإِنَّهُ فِي مَرَّةٍ مَدْفُوقُ فَقَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : لَا تَقُولِي ذَلِكَ ، وَلَكِنْ قُولِي : وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ .
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو میں نے ان پر نزع کی کیفیات اور موت کی سختی کے آثار دیکھے، تو میں نے (درد بھرے لہجے میں) یہ شعر پڑھا: ”ہائے افسوس! ہائے حسرت! وہ شخص جس کے آنسو ہمیشہ (صبر و ضبط کی وجہ سے) تھمے رہتے ہوں، وہ آخر کار ایک دفعہ تو بہہ کر ہی رہتے ہیں۔“ اس پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کہو، بلکہ یہ (قرآنی آیت) تلاوت کرو: ﴿وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ﴾ [سورة ق: 19] یعنی: اور موت کی غشی برحق آ پہنچی، یہی وہ حقیقت ہے جس سے تو بھاگتا اور کتراتا تھا۔“
اس حدیث کی تخریج امام ابو یعلیٰ موصلی نے اپنی مسند میں کی ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجنائز / حدیث: 773
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح
قال الهيثمي: إسناده رجاله رجال الصحيح مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (3 / 20) »
«أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1264، 1271، 1272، 1273، 1387، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 941، ومالك فى «الموطأ» برقم: 758 ، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3151، والترمذي فى «جامعه» برقم: 996، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1469، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 6773، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24756، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 773، وأخرجه أبو يعلى فى «مسنده» برقم: 4495»