المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ أَحْوَالِ الْمُحْتَضَرِ باب: حالتِ نزع والے شخص کے احوال کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَرَأَيْتُ بِهِ الْمَوْتَ ، فَقُلْتُ : هَيْجٌ ، هَيْجٌ :
مَنْ لَا يَزَالُ دَمْعُهُ مُصَنَّعًا فَإِنَّهُ فِي مَرَّةٍ مَدْفُوقُ فَقَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : لَا تَقُولِي ذَلِكَ ، وَلَكِنْ قُولِي : وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو میں نے ان پر نزع کی کیفیات اور موت کی سختی کے آثار دیکھے، تو میں نے (درد بھرے لہجے میں) یہ شعر پڑھا: ”ہائے افسوس! ہائے حسرت! وہ شخص جس کے آنسو ہمیشہ (صبر و ضبط کی وجہ سے) تھمے رہتے ہوں، وہ آخر کار ایک دفعہ تو بہہ کر ہی رہتے ہیں۔“ اس پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کہو، بلکہ یہ (قرآنی آیت) تلاوت کرو: ﴿وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ﴾ [سورة ق: 19] یعنی: اور موت کی غشی برحق آ پہنچی، یہی وہ حقیقت ہے جس سے تو بھاگتا اور کتراتا تھا۔“
اس حدیث کی تخریج امام ابو یعلیٰ موصلی نے اپنی مسند میں کی ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔