❮
❯
حدیث نمبر: 772
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، قَالَ : مَرِضَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَأَتَاهُ أَصْحَابُهُ يَعُودُونَهُ ، فَقَالَ : أَجْلِسُونِي ، فَأَجْلَسُوهُ فَقَالَ : كَلِمَةٌ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ عِنْدَ الْمَوْتِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، هَدَمَتْ مَا كَانَ قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا ، فَلَقِّنُوهَا مَوْتَاكُمْ ، قَالُوا : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَكَيْفَ هِيَ لِلْأَحْيَاءِ ؟ قَالَ : أَهْدَمُ وَأَهْدَمُ .
ترجمہ

امام مکحول رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو ان کے رفقاء ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے، انہوں نے کہا: ”مجھے بٹھا دو“، چنانچہ ان کے ساتھیوں نے انہیں بٹھا دیا، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک حدیث مبارکہ سنی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص کا آخری کلام موت کے وقت «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ» ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں“ ہو، تو یہ کلمہ اس کے سابقہ تمام گناہوں اور خطاؤں کو نیست و نابود کر دیتا ہے، لہٰذا تم اپنے مرنے والوں کو اس کی تلقین کیا کرو۔“ لوگوں نے عرض کی: ”اے ابوعبدالرحمٰن (سیدنا معاذ)! یہ کلمہ زندوں کے لیے (اجر و ثواب میں) کیسا ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”یہ (ان کے گناہوں کو) اور زیادہ مٹانے اور ختم کرنے والا ہے۔“
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں فرج بن فضالہ نامی راوی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے، البتہ کلمہ شہادت کی تلقین اور اس کے آخری کلام ہونے کی فضیلت دیگر صحیح احادیث سے بھی ثابت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجنائز / حدیث: 772
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»