المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ أَحْوَالِ الْمُحْتَضَرِ باب: حالتِ نزع والے شخص کے احوال کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ أَبِي الرُّقَادِ ، عَنْ زِيَادٍ النُّمَيْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ كَئِيبٌ ، فَقَالَ : مَا لِي أَرَاكَ كَئِيبًا ؟ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَمٍّ لِي الْبَارِحَةَ فُلَانٍ ، وَهُوَ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ ، قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : فَهَلَّا لَقَّنْتَهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ؟ قَالَ : قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : فَقَالَهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : يَا رَسُولَ اللهِ ، كَيْفَ هِيَ لِلْأَحْيَاءِ ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : هِيَ أَهْدَمُ لِذُنُوبِهِمْ ، هِيَ أَهْدَمُ لِذُنُوبِهِمْ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ وہ انتہائی مغموم اور افسردہ تھے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”مجھے کیا ہوا کہ میں تمہیں اس قدر غمزدہ دیکھ رہا ہوں؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! گزشتہ رات میں اپنے ایک فلاں چچا زاد بھائی کے پاس تھا جبکہ وہ جاں کنی کے عالم میں اپنی جان کے ساتھ کشمکش میں مبتلا تھا“۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پھر تم نے اسے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کی تلقین کیوں نہ کی؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے ایسا ہی کیا تھا“۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تو کیا اس نے یہ کلمہ پڑھ لیا تھا؟“ انہوں نے عرض کیا: ”جی ہاں“۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تب تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی“۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! زندوں کے لیے اس کلمہ کی کیا حیثیت ہے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ ان کے گناہوں کو مٹانے اور ڈھا دینے میں کہیں زیادہ مؤثر ہے، یہ ان کے گناہوں کو جڑ سے ختم کر دینے والا ہے“۔
مسند ابویعلیٰ: 771، اس کی سند میں زائدہ بن ابی الرقاد اور زیاد النمیری ہیں جن کی وجہ سے سند میں ضعف ہے، تاہم کلمہ توحید کی فضیلت میں دیگر صحیح احادیث شواہد کے طور پر موجود ہیں۔