المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ أَحْوَالِ الْمُحْتَضَرِ باب: حالتِ نزع والے شخص کے احوال کا بیان۔
حدیث نمبر: 770
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - أَنَّهُ أَوْصَى : إِذَا حُضِرْتُ فَأَجْلِسُوا عِنْدِي مَنْ يُلَقِّنُنِي لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَأَسْرِعُوا بِي إِلَى حُفْرَتِي ، وَلَا تَنْعُونِي إِلَى النَّاسِ ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ نَعْيًا كَنَعْيِ الْجَاهِلِيَّةِ .
مَوْقُوفٌ عَلَى عَلْقَمَةَ صَحِيحٌ .ترجمہ
سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے وصیت فرمائی: ”جب میری وفات کا وقت قریب آ جائے تو میرے پاس ایسے شخص کو بٹھانا جو مجھے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کی تلقین کرے، اور (وفات کے بعد) مجھے میری قبر کی طرف تیزی سے لے کر چلنا، اور لوگوں میں میری موت کا عام اعلان (منادی) نہ کرنا، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں یہ فعل دورِ جاہلیت کی پکار (نوحہ و شہرت) کے مشابہ نہ ہو جائے۔“
یہ اثر علقمہ رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔