❮
❯
حدیث نمبر: 768
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ : إِنَّ مَيْسَرَةَ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْإِمَامِ يَوْمَ الْعِيدِ ، فَقُلْتُ : أَلَيْسَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - كَانَ يَكْرَهُ الصَّلَاةَ قَبْلَهَا ؟ قَالَ : بَلَى .
ترجمہ

سیدنا عطاء بن السائب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میسرہ رحمہ اللہ عید کے دن امام کے (نمازِ عید کے لیے) تشریف لانے سے قبل نفل نماز ادا کیا کرتے تھے، تو میں نے (عطاء نے) ان سے دریافت کیا: ”کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ عید کی نماز سے پہلے نفل پڑھنے کو ناپسند نہیں فرماتے تھے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں، (وہ اسے ناپسند ہی فرماتے تھے)۔“
اس روایت کو امام مسدد نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، اور چونکہ امام شعبہ نے عطاء بن السائب سے ان کے اختلاطِ حافظہ سے قبل روایت کی ہے اس لیے یہ سند قوی ہے، نیز سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ موقف دیگر آثار سے بھی ثابت ہے کہ عید کی نماز سے قبل اور بعد میں عید گاہ میں کوئی نفل نماز نہیں ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / أبواب الجمعة / حدیث: 768
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»