المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ باب: عیدین (دونوں عیدوں) کی نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 767
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - يَوْمَ الْعِيدِ ، فَلَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا ، فَلَمَّا صَلَّيْنَا رَأَى النَّاسَ عُنُقًا وَاحِدًا يَنْطَلِقُونَ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : إِنَّ هَذَا لَبِدْعَةٌ وَتَرْكُ السُّنَّةِ .ترجمہ
سعد بن اسحاق کے چچا سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”میں عید کے روز سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ نکلا، تو انہوں نے عید کی نماز سے پہلے کوئی (نفل) نماز ادا نہیں کی۔ پھر جب ہم نمازِ عید ادا کر چکے تو انہوں نے دیکھا کہ لوگ ایک ریلے کی صورت میں (نفل پڑھنے کے لیے) مسجد کی طرف لپک رہے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: ”یقیناً یہ عمل بدعت ہے اور سنت کو ترک کرنا ہے۔“
[تخریج: اس اثر کی سند حسن ہے، اور اس میں عید کی نماز سے قبل یا بعد میں عیدگاہ میں نفل نماز پڑھنے کی ممانعت کا ذکر ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ سے یہ ثابت نہیں ہے]۔