❮
❯
حدیث نمبر: 766
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، وَعِنْدَهُ شَيْخٌ ، فَذَكَرْنَا مَا يُقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ فَقَالَ الشَّيْخُ : صَحِبْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - إِلَى الزَّاوِيَةِ يَوْمَ عِيدٍ ، فَإِذَا مَوْلًى لَهُمْ يُصَلِّي بِهِمْ ، فَقَرَأَ : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ، وَ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى ، قَالَ أَنَسٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : لَقَدْ قَرَأَ بِالسُّورَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَرَأَ بِهِمَا رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - .
ترجمہ

عمارہ بن زاذان سے مروی ہے کہ ہم ثابت بنانی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور وہاں ایک بزرگ بھی موجود تھے، ہم نے اس بات کا تذکرہ کیا کہ عیدین میں کن سورتوں کی تلاوت کی جاتی ہے؟ تو ان بزرگ نے بتایا کہ میں عید کے دن سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ ”زاویہ“ نامی مقام کی طرف گیا، وہاں ان کا ایک آزاد کردہ غلام لوگوں کو نماز پڑھا رہا تھا، اس نے نماز میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] اور ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ﴾ [سورة الليل: 1] کی تلاوت کی۔ اس پر سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”اس نے یقیناً وہی دو سورتیں پڑھی ہیں جو رسول اللہ ﷺ تلاوت فرمایا کرتے تھے۔“
اس حدیث کو امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی عمارہ بن زاذان اگرچہ صدوق ہیں تاہم بعض محدثین نے ان کے حفظ پر کلام کیا ہے، لیکن عیدین میں ان سورتوں کی تلاوت کی اصل دیگر احادیثِ صحیحہ سے بھی ثابت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / أبواب الجمعة / حدیث: 766
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه الطيالسي فى «مسنده» برقم: 2159، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 766»