المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ باب: نمازِ خوف کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ ، قَالَ : إِنَّ أَبَا مُوسَى - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - كَانَ بِالدَّارِ مِنْ أَصْبَهَانَ وَمَا كَانَ بِهَا يَوْمَئِذٍ كَبِيرُ خَوْفٍ ، وَلَكِنْ أَحَبَّ أَنْ يُعَلِّمَهُمْ دِينَهُمْ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِمْ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَهُمْ صَفَّيْنِ ، طَائِفَةً مَعَهَا السِّلَاحُ مُقْبِلَةً عَلَى عَدُوِّهَا ، وَطَائِفَةً مِنْ قُدَّامِهِ ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ يَلُونَهُ رَكْعَةً ، ثُمَّ نَكَصُوا عَلَى أَدْبَارِهِمْ حَتَّى قَامُوا مَقَامَ الْآخَرِينَ يَتَخَلَّلُونَهُمْ ، حَتَّى قَامُوا وَرَاءَهُ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى ، ثُمَّ سَلَّمَ ، فَقَامَ الَّذِينَ يَلُونَهُ وَالْآخَرُونَ فَصَلَّوْا رَكْعَةً رَكْعَةً ، ثُمَّ سَلَّمَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ، فَتَمَّتْ لِلْإِمَامِ رَكْعَتَانِ فِي جَمَاعَةٍ وَلِلنَّاسِ رَكْعَةٌ رَكْعَةٌ .
رِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ انْقِطَاعًا بَيْنَ أَبِي الْعَالِيَةِ وَأَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - .ابوالعالیہ ریاحی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اصفہان کے ایک مکان (یا علاقے) میں مقیم تھے اور ان دنوں وہاں دشمن کا کوئی خاص خوف و خطر نہ تھا، لیکن انہوں نے اس بات کو پسند فرمایا کہ لوگوں کو ان کا دین اور ان کے نبی ﷺ کی سنت کی تعلیم دیں، چنانچہ انہوں نے لوگوں کے دو گروہ بنائے؛ ایک گروہ اسلحہ بند ہو کر دشمن کے سامنے صف آرا رہا اور دوسرا گروہ ان کے پیچھے نماز کے لیے کھڑا ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھ والے گروہ کو ایک رکعت پڑھائی، پھر وہ لوگ الٹے پاؤں پیچھے ہٹ گئے یہاں تک کہ دوسرے گروہ کے مقام پر پہنچ گئے اور ایک دوسرے کے درمیان سے راستہ بناتے ہوئے جگہ تبدیل کر لی، یہاں تک کہ وہ امام کے پیچھے آ کھڑے ہوئے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک اور رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا، اس کے بعد پہلے گروہ اور دوسرے گروہ کے تمام لوگوں نے کھڑے ہو کر اپنی بقیہ ایک ایک رکعت انفرادی طور پر ادا کی اور پھر سلام پھیرا۔ اس طرح امام کی دو رکعتیں جماعت کے ساتھ مکمل ہوئیں اور مقتدیوں کی بھی ایک ایک رکعت امام کی اقتدا میں مکمل ہو گئی۔
اس کے راوی ثقہ ہیں، البتہ اس کی سند میں ابوالعالیہ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع پایا جاتا ہے۔