المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ باب: نمازِ خوف کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَبْدٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : صَلَاةُ الْخَوْفِ رَكْعَتَانِ وَأَرْبَعُ سَجَدَاتٍ ، وَإِنْ أَعْجَلَهُ أَمْرٌ فَقَدْ حَلَّ الْقِتَالُ [وَالْكَلَامُ] .سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”صلاۃ الخوف (خوف کی حالت کی نماز) دو رکعتیں اور چار سجدے ہے، اور اگر کسی ناگہانی معاملے یا دشمن کے اچانک حملے نے نمازی کو عجلت و جلدی پر مجبور کر دیا ہو تو ایسی ہنگامی صورتِ حال میں دورانِ نماز دشمن سے قتال کرنا اور ضرورت کے تحت کلام کرنا جائز ہو جاتا ہے۔“
اسے امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی شریک بن عبداللہ القاضی اپنے حافظے کے سبب محدثین کے ہاں محلِ نظر ہیں، تاہم فقہائے کرام کے ہاں انتہائی خوف کی حالت میں صلاۃِ مطاردہ (دوڑتے ہوئے یا لڑتے ہوئے نماز) کے احکامات میں ایسی وسعت کی علمی بحث موجود ہے۔