المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ خِصَالِ الْفِطْرَةِ باب: فطرت کی خصلتوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ لِلْحَلَّاقِ : " يَا غُلَامُ ، أَبْلِغِ الْعَظْمَيْنِ " . قَالَ : فَلَمَّا حَلَقَهُ أَعْطَاهُ ذِرَاعَيْهِ وَصَدْرَهُ ، فَحَلَقَ شَعَرًا عَلَيْهِمَا وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ . فَقَالَ لَهُ سَالِمٌ : يَا أَبَةِ ، إِنَّ النَّاسَ يَحْسَبُونَ أَنَّهَا سُنَّةٌ ؟ قَالَ : " فَأَخْبِرِ النَّاسَ أَنَّهَا لَيْسَتْ بِسُنَّةٍ ، وَلَكِنَّ ابْنَ عُمَرَ آذَاهُ شَعَرُهُ ، فَأَرَادَ أَنْ يُخَفِّفَهُ عَنْهُ " .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک حجام سے فرمایا: ”اے لڑکے! (سر مونڈتے وقت) دونوں کانوں کی ہڈیوں تک پہنچ جاؤ۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ جب اس نے ان کا سر مونڈ لیا تو انہوں نے اسے اپنے دونوں بازو اور سینہ (مونڈنے کے لیے) پیش کر دیے، پس حجام نے ان پر موجود بالوں کو مونڈ دیا اور لوگ انہیں دیکھ رہے تھے۔ تو ان کے صاحبزادے سالم رحمہ اللہ نے ان سے عرض کی: اے ابا جان! بے شک لوگ یہ گمان کر رہے ہیں کہ (جسم کے یہ بال مونڈنا) سنت ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”تو تم لوگوں کو بتا دو کہ یقیناً یہ سنت نہیں ہے، بلکہ ابن عمر کو ان کے ان بالوں نے تکلیف دی تھی، اس لیے انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ انہیں صاف کر کے اپنا بوجھ ہلکا کر لیں۔“