المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ خِصَالِ الْفِطْرَةِ باب: فطرت کی خصلتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 74
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : " أُمِرَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَاخْتَتَنَ بِقَدُومٍ ، فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ ، فَأَوْحَى اللهُ تَعَالَى إِلَيْهِ : عَجِلْتَ قَبْلَ أَنْ نَأْمُرَكَ بِآلَتِهِ . قَالَ : يَا رَبِّ ، كَرِهْتُ أَنْ أُؤَخِّرَ أَمْرَكَ " .ترجمہ
سیدنا موسیٰ بن علی اپنے والد سے روایت ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو ختنے کا حکم دیا گیا تو انہوں نے تیشے (بڑھئی کے اوزار) سے اپنا ختنہ کر لیا، جس سے انہیں شدید تکلیف اور مشقت پہنچی، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ ”تم نے اس کام کے لیے مخصوص اوزار کا حکم دیے جانے سے پہلے ہی جلدی کر لی“، انہوں نے عرض کیا: ”اے میرے رب! میں نے اس بات کو سخت ناپسند کیا کہ آپ کے حکم کی بجا آوری میں ذرا سی بھی تاخیر کروں“۔