المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ وَمَا جَاءَ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ باب: سفر میں نماز قصر کرنے اور دو نمازیں جمع کرنے کا بیان۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ نَضْلَةَ ، قَالَ : خَرَجْنَا فِي سَفَرٍ وَنَحْنُ اثْنَا عَشَرَ رَاكِبًا ، كُلُّهُمْ قَدْ صَحِبَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيْرِي ، قَالَ : فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ ، فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَصَلَّى أَرْبَعًا ، فَقَالَ سَلْمَانُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : مَا لَنَا وَلِلْمَرْبُوعَةِ ، تَكْفِينَا نِصْفُ الْمَرْبُوعَةِ ، نَحْنُ إِلَى التَّخْفِيفِ أَفْقَرُ .ربیع بن نضلہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر پر روانہ ہوئے اور ہم کل بارہ سوار تھے، میرے سوا وہ تمام لوگ اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ کی صحبتِ بابرکت سے فیضیاب ہو چکے تھے، وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر جب نماز کا وقت ہوا تو قافلے میں سے ایک شخص امامت کے لیے آگے بڑھا اور اس نے (قصر کے بجائے) چار رکعات پڑھا دیں، تو اس پر سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے (تعجب کا اظہار کرتے ہوئے) فرمایا: ”ہمیں ان چار رکعت والی نمازوں «المربوعة» سے کیا سروکار؟ ہمارے لیے تو چار رکعتوں کا آدھا حصہ ہی کافی ہے، اور ہم تو (دورانِ سفر شرعی) تخفیف اور آسانی کے زیادہ حاجت مند ہیں۔“
اس روایت کو امام ابن ابی شیبہ نے المصنف میں روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔