المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ وَمَا جَاءَ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ باب: سفر میں نماز قصر کرنے اور دو نمازیں جمع کرنے کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عَوْفٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - بِالْبَلْدَةِ وَهِيَ مِنًى ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ عُثْمَانَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - صَلَّى أَرْبَعًا ، فَقَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَصَلَّوْا رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعًا .ایک شخص سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں مقامِ بلدہ (جو کہ منیٰ کا علاقہ ہے) میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا، تو ان سے کہا گیا کہ یقیناً سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے (یہاں مسافر ہونے کے باوجود) چار رکعتیں پڑھائی ہیں، اس پر انہوں نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم ﷺ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ نماز ادا کی ہے، ان سب نے (منیٰ میں) دو ہی رکعتیں پڑھائی تھیں“، پھر (اس کے باوجود کہ ان کا علمی موقف دو رکعت کا تھا) وہ کھڑے ہوئے اور خود بھی چار رکعتیں ہی پڑھیں۔
اس روایت کو امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی مبہم (نامعلوم) ہے، البتہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے اتمامِ صلاۃ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا (اتحاد کی خاطر) ان کی اقتدا کرنے کا واقعہ دیگر معتبر کتبِ حدیث میں بھی مروی ہے۔