المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ وَمَا جَاءَ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ باب: سفر میں نماز قصر کرنے اور دو نمازیں جمع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 727
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُتِمُّ الصَّلَاةَ وَيَقْصُرُ . يَعْنِي فِي السَّفَرِ .
727 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بِهِ . وَزَادَ : وَيُؤَخِّرُ الظُّهْرَ ، وَيُعَجِّلُ الْعَصْرَ ، وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ ، وَيُعَجِّلُ الْعِشَاءَ .ترجمہ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ دورانِ سفر (کبھی) نماز پوری ادا فرماتے تھے اور (کبھی) قصر بھی کیا کرتے تھے۔“
امام ابو یعلیٰ نے اپنی سند سے اسی روایت میں یہ الفاظ زیادہ نقل کیے ہیں کہ: ”آپ ﷺ ظہر کی نماز میں تاخیر فرماتے اور عصر کی نماز جلدی ادا کرتے تھے، اور اسی طرح مغرب کی نماز کو مؤخر فرماتے اور عشاء کی نماز تعجیل کے ساتھ (یعنی جلد) ادا فرماتے تھے۔“