المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ خُطْبَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ کے خطبے کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، حَدَّثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ - وَفِيهِ : ثُمَّ خَطَبَ ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلهِ نَحْمَدُهُ ، وَنَسْتَعِينُهُ ، وَنَسْتَغْفِرُهُ ، وَنُؤْمِنُ بِهِ ، وَنَتَوَكَّلُ عَلَيْهِ ، وَنَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ [لَهُ] ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَنَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا ، وَسَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا ، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ .سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک طویل خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: «الْحَمْدُ لِلهِ نَحْمَدُهُ، وَنَسْتَعِينُهُ، وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنُؤْمِنُ بِهِ، وَنَتَوَكَّلُ عَلَيْهِ، وَنَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَنَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، وَسَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے خاص ہیں، ہم اسی کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد مانگتے ہیں اور اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں، ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں، اور ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور بے شک محمد (ﷺ) اس کے بندے اور رسول ہیں، نیز ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں؛ جسے اللہ ہدایت عطا فرما دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، اور جسے وہ (اس کی کجی کی بنا پر) گمراہی میں چھوڑ دے تو اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے“۔
اس روایت کی سند سخت ضعیف بلکہ موضوع (من گھڑت) ہے کیونکہ اس کے راوی داؤد بن المحبر اور میسرہ بن عبد ربہ حدیث گھڑنے میں مشہور رہے ہیں۔