المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْإِنْصَاتِ لِلْخُطْبَةِ باب: خطبہ خاموشی سے سننے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ، [ عَنْ جَابِرٍ ] - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : دَخَلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ ، فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ ، فَظَنَّ أَنَّهَا مَوْجِدَةٌ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ أُبَيٌّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : يَا عَبْدَ اللهِ ، إِنَّكَ لَمْ تَحْضُرْ مَعَنَا الْجُمُعَةَ ، قَالَ : لِمَ ؟ قَالَ : تَكَلَّمْتَ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ . فَقَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : صَدَقَ أُبَيٌّ .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے جبکہ نبی کریم ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے اور ان سے کسی معاملے کے متعلق دریافت کیا، لیکن انہوں نے ان کو کوئی جواب نہ دیا، جس پر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ گمان کیا کہ شاید وہ ان سے ناراض ہیں، پھر انہوں نے اس بات کا تذکرہ نبی کریم ﷺ سے کیا۔ تب سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے عبداللہ! آپ (ثواب و فضیلت کے اعتبار سے) ہمارے ساتھ جمعہ میں حاضر ہی نہیں تھے۔“ انہوں نے پوچھا: ”وہ کیوں؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”اس لیے کہ آپ نے اس وقت کلام کیا جب نبی کریم ﷺ خطبہ دے رہے تھے۔“ اس پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ابی نے سچ کہا ہے۔“
اس حدیث کی تخریج امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں کی ہے، اگرچہ اس کی سند میں عیسیٰ بن جاریہ کے حفظ پر کلام کیا گیا ہے، لیکن خطبے کے دوران گفتگو کرنے سے جمعہ کے فضائل سے محرومی کے متعلق دیگر صحیح احادیث اس کے مفہوم کی تائید کرتی ہیں۔