المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ وَقْتِ الْجُمُعَةِ باب: نمازِ جمعہ کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 701
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ قَالَ : حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمَّتِهِ أُنَيْسَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، وَكَانَتْ قَدْ حَجَّتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : كَانَ رِجَالُنَا يُجَمِّعُونَ مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثُمَّ يَرْجِعُونَ وَأَرْدِيَتُهُمْ عَلَى رُؤُوسِهِمْ ، يَتَّبِعُونَ فَيْءَ الْحِيطَانِ ، يَقِيلُونَ بَعْدَهَا .
إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ .ترجمہ
سیدہ انیسہ رضی اللہ عنہا (جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے ہمراہ حج کی سعادت حاصل کی تھی) سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا: ”ہمارے مرد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی معیت میں نمازِ جمعہ ادا کیا کرتے تھے، پھر وہ وہاں سے اس حال میں واپس لوٹتے کہ اپنی چادریں (دھوپ کی حدت سے بچنے کے لیے) اپنے سروں پر تانے ہوئے ہوتے تھے، وہ (واپسی کے راستے میں) دیواروں کے سائے تلاش کرتے اور ان کے ساتھ ساتھ چلتے تھے، اور وہ لوگ اس (نمازِ جمعہ) کے بعد ہی دوپہر کا آرام یعنی قیلولہ کیا کرتے تھے۔“
اس کی سند صحیح ہے۔