المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَنْ تَجِبُ عَلَيْهِ الْجُمُعَةُ باب: ان لوگوں کا بیان جن پر جمعہ واجب ہے۔
حدیث نمبر: 684
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : احْضُرُوا الْجُمُعَةَ ، وَادْنُوا مِنَ الْإِمَامِ ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَخَلَّفُ عَنِ الْجُمُعَةِ وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِهَا .ترجمہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نمازِ جمعہ میں حاضر ہوا کرو اور امام کے قریب (ہو کر) بیٹھا کرو، کیونکہ آدمی جمعہ (میں حاضری) سے مسلسل پیچھے رہتا رہتا ہے (یعنی تاخیر کرتا ہے)، حالانکہ وہ اس کے حقداروں میں سے ہوتا ہے۔“
تخریج و تحکیم: اس روایت کو امام ابوداؤد (1108) اور امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں حکم بن عبد الملک کے ضعف کی وجہ سے بعض محدثین نے کلام کیا ہے، تاہم دیگر شواہد اور متابعات کی بنا پر علامہ البانیؒ نے اسے حسن قرار دیا ہے۔