المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَنْ تَجِبُ عَلَيْهِ الْجُمُعَةُ باب: ان لوگوں کا بیان جن پر جمعہ واجب ہے۔
حدیث نمبر: 683
حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : كَانَ أَبُو الْمَلِيحِ عَلَى الْأُبُلَّةِ ، وَلَمْ يَكُنْ مِنْ عُمَّالِ الْحَجَّاجِ أَتْقَى مِنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، فَكَانَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ جَاءَ فَجَمَّعَ بِالْبَصْرَةِ ثُمَّ رَجَعَ .ترجمہ
ابن عون رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”ابو الملیح رحمہ اللہ مقامِ ابلہ (بصرہ کے قریب ایک مقام) کے عامل و نگران تھے، اور حجاج بن یوسف کے تمام کارندوں میں ابو الملیح سے بڑھ کر کوئی متقی اور پرہیزگار نہ تھا؛ ان کا معمول یہ تھا کہ جب جمعہ کا دن آتا تو وہ (نماز کی ادائیگی کے لیے) بصرہ تشریف لاتے، وہاں باجماعت نمازِ جمعہ ادا کرتے اور پھر (واپس اپنی ذمہ داری کے مقام پر) لوٹ جاتے۔“
اس اثر کی سند صحیح ہے اور اسے امام ابو داؤد نے کتاب الزہد میں روایت کیا ہے، جو ایک جلیل القدر تابعی کے تقویٰ اور اہتمامِ نماز پر دلالت کرتا ہے۔