المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الْجُمُعَةِ وَالسَّاعَةِ الَّتِي تُرْجَى فِيهَا إِجَابَةُ الدُّعَاءِ باب: جمعہ کی فضیلت اور قبولیتِ دعا کی ساعت کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، ثَنَا الْأَصْبَغُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ يَدْعُو بِخَيْرٍ إِلَّا اسْتُجِيبَ . فَقَالَتْ فَاطِمَةُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، فَأَيَّةُ سَاعَةٍ هِيَ ؟ قَالَ : إِذَا تَدَلَّتِ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ ، وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَقُولُ لِغُلَامٍ يُقَالُ لَهُ أَرْبَدُ أَرْبِد : اصْعَدْ عَلَى الظِّرَابِ ، فَإِذَا رَأَيْتَ الشَّمْسَ تَدَلَّتْ لِلْغُرُوبِ فَأَخْبِرْنِي ، فَيُخْبِرُهَا ، وَكَانَتْ تَقُومُ إِلَى مَسْجِدِهَا فَلَا تَزَالُ تَدْعُو حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ثُمَّ تُصَلِّيَ .
قُلْتُ : زَيْدٌ لَمْ يُدْرِكْ فَاطِمَةَ ، وَسَعِيدُ بْنُ رَاشِدٍ وَاهٍ .سیدہ فاطمہ بنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”یقیناً جمعہ کے دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ کوئی بھی مسلمان بندہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے کسی خیر و بھلائی کی دعا نہیں مانگتا مگر اس کی وہ دعا قبول کر لی جاتی ہے۔“ اس پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! وہ کون سا وقت ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سورج غروب ہونے کے لیے ڈھلنے لگے۔“ چنانچہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے ایک غلام، جس کا نام اربد تھا، سے فرمایا کرتی تھیں: ”ٹیلوں پر چڑھ جاؤ اور جب تم دیکھو کہ سورج غروب ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے تو مجھے اطلاع دو۔“ چنانچہ وہ انہیں خبر دیتا اور آپ رضی اللہ عنہا اپنے مصلے (جائے نماز) پر کھڑی ہو جاتیں اور مسلسل دعا میں مشغول رہتیں یہاں تک کہ سورج غروب ہو جاتا، پھر آپ رضی اللہ عنہا نماز ادا فرماتیں۔
میں کہتا ہوں: زید نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ نہیں پایا اور سعید بن راشد نہایت کمزور و ضعیف راوی ہے۔