❮
❯
حدیث نمبر: 674
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَلِيٍّ ، ثَنَا أَبِي ، عَنْ عَوَّامٍ الْبَصْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَيْلَةَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ سَاعَةً ، لَيْسَ فِيهَا سَاعَةٌ إِلَّا وَلِلَّهِ تَعَالَى فِيهَا سِتُّمِائَةِ عَتِيقٍ مِنَ النَّارِ ، قَالَ : فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ فَدَخَلْنَا عَلَى الْحَسَنِ ، فَذَكَرْنَا لَهُ حَدِيثَ ثَابِتٍ ، فَقَالَ : سَمِعْتُهُ ، وَزَادَ فِيهِ : كُلُّهُمْ قَدِ اسْتَوْجَبَ النَّارَ .
674 \ 2 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَحْرٍ ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، ثَنَا الْأَزْوَرُ بْنُ غَالِبٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَسُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَحْوَهُ ، لَكِنْ قَالَ فِيهِ : سِتُّمِائَةِ أَلْفِ عَتِيقٍ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ : قَالَ أَحَدُهُمَا : كُلُّهُمْ قَدِ اسْتَوْجَبَ النَّارَ .
ترجمہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک جمعہ کا دن اور جمعہ کی رات چوبیس گھنٹوں پر مشتمل ہے، ان میں سے کوئی بھی ساعت ایسی نہیں ہے جس میں اللہ تعالیٰ جہنم کی آگ سے چھ سو ایسے افراد کو آزادی عطا نہ فرماتا ہو جو دوزخ کے مستحق ہو چکے ہوں۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر ہم وہاں سے رخصت ہوئے اور امام حسن بصری کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے ثابت کی بیان کردہ حدیث کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے بھی یہ حدیث سنی ہے، اور انہوں نے اس میں یہ اضافہ کیا کہ: ”وہ تمام کے تمام جہنم کی آگ کے مستحق ہو چکے تھے۔“
امام ابو یعلیٰ ہی کی دوسری سند کے مطابق سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہی اسی کے مثل مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ مروی ہیں کہ: ”چھ لاکھ افراد کو جہنم سے آزاد کیا جاتا ہے،“ اور اس روایت کے آخر میں مذکور ہے کہ ان دونوں میں سے ایک راوی نے کہا: ”وہ سب کے سب آگ کے مستحق ہو چکے تھے۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / أبواب الجمعة / حدیث: 674
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه أبو يعلى فى «مسنده» برقم: 3434، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"،، وأخرجه أبو يعلى فى «مسنده» برقم: 3435، 3484، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 674/1»