المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الْجُمُعَةِ وَالسَّاعَةِ الَّتِي تُرْجَى فِيهَا إِجَابَةُ الدُّعَاءِ باب: جمعہ کی فضیلت اور قبولیتِ دعا کی ساعت کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثَنَا أَبُو نُصَيْرَةَ الْوَاسِطِيُّ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ : الْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ ، وَالصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ لِمَنِ اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، ثُمَّ زَادَهُ فَقَالَ : الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ كَفَّارَةٌ ، وَالْمَشْيُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَفَّارَةٌ : كُلُّ قَدَمٍ مِنْهَا لِعَمَلِ عِشْرِينَ سَنَةً ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ أُجِيزَ بِعَمَلِ مِائَتَيْ سَنَةٍ .
676 \ 2 - أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ حُمْرَةَ ، عَنْ أَبِي نُصَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنْ عِمْرَانَ ، وَأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ كُفِّرَتْ عَنْهُ ذُنُوبُهُ وَخَطَايَاهُ ، فَإِذَا أَخَذَ فِي الْمَشْيِ كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ عَمَلُ عِشْرِينَ سَنَةً ، فَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْجُمُعَةِ أُجِيزَ بِعَمَلِ مِائَتَيْ سَنَةٍ .
قَالَ إِسْحَاقُ : الضَّحَّاكُ بْنُ حُمْرَةَ : ثِقَةٌ فِي الْحَدِيثِ - أَحْمَدُ فِي الزُّهْدِ .سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی: "مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ ارشاد فرماتے ہیں کہ ”ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ اور پانچوں نمازیں اپنے درمیانی وقفے کے گناہوں کے لیے کفارہ بن جاتی ہیں، اس شخص کے لیے جو بڑے گناہوں سے بچتا رہے؟“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں (یہ درست ہے)“۔ پھر آپ ﷺ نے اس میں مزید اضافہ کرتے ہوئے فرمایا: ”جمعہ کے دن غسل کرنا گناہوں کا کفارہ ہے، اور جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چل کر جانا بھی کفارہ ہے، اس کے ہر قدم کے بدلے بیس سال کے نیک عمل کا ثواب ملتا ہے، اور جب وہ جمعہ کی نماز سے فارغ ہوتا ہے تو اسے دو سو سال کے عمل کے برابر جزا دی جاتی ہے“۔
سیدنا عمران بن حصین اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن غسل کیا، اس کے گناہ اور خطائیں مٹادی جاتی ہیں، پھر جب وہ مسجد کی طرف چلنا شروع کرتا ہے تو اسے ہر قدم کے بدلے بیس سال کے عمل کا ثواب ملتا ہے، اور جب وہ نمازِ جمعہ سے فارغ ہوتا ہے تو اسے دو سو سال کی عبادت کا اجر عطا کیا جاتا ہے“۔ امام اسحاق بن راہویہ فرماتے ہیں کہ ضحاک بن حمرہ حدیث میں ثقہ ہیں، اور امام احمد نے اسے الزہد میں روایت کیا ہے۔