المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الْجُمُعَةِ وَالسَّاعَةِ الَّتِي تُرْجَى فِيهَا إِجَابَةُ الدُّعَاءِ باب: جمعہ کی فضیلت اور قبولیتِ دعا کی ساعت کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : جَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بِمِرْآةٍ بَيْضَاءَ فِيهَا نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ ، فَقُلْتُ : مَا هَذِهِ ؟ قَالَ : هَذِهِ الْجُمُعَةُ فِيهَا سَاعَةٌ .
673 \ 2 - وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْحِمْيَرِيُّ ، ثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ حُمْرَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأَيَّامُ ، فَعُرِضَ عَلَيَّ مِنْهَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ ، فَإِذَا هِيَ كَالْمِرْآةِ الْحَسْنَاءِ وَإِذَا فِي وَسَطِهَا نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا السَّوَادُ ؟ قَالَ : هَذِهِ السَّاعَةُ .
673 \ 3 - وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عُثْمَانَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بِالْجُمُعَةِ ، وَهِيَ كَالْمِرْآةِ الْبَيْضَاءِ فِيهَا كَالنُّكْتَةِ السَّوْدَاءِ ، فَقُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، مَا هَذِهِ ؟ قَالَ : هَذِهِ الْجُمُعَةُ ، قُلْتُ : وَمَا الْجُمُعَةُ ؟ قَالَ : لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ ، قُلْتُ : وَمَا لَنَا فِيهَا ؟ قَالَ : يَكُونُ عِيدًا لَكَ ، وَلِقَوْمِكَ مِنْ بَعْدِكَ ، وَيَكُونُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى تَبَعًا لَكَ ، قُلْتُ : وَمَا لَنَا فِيهَا ؟ قَالَ : لَكُمْ فِيهَا سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللهَ تَعَالَى فِيهَا شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَاهُ اللهُ إِيَّاهُ - إِنْ كَانَ لَهُ فِيهَا قَسْمٌ - وَإِلَّا ادَّخَرَ لَهُ عِنْدَهُ مَا هُوَ أَفْضَلُ مِنْهُ - إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ بِقَسْمٍ - أَوْ تَعَوَّذَ بِهِ مِنْ شَرٍّ هُوَ عَلَيْهِ مَكْتُوبٌ إِلَّا دَفَعَ عَنْهُ مِنَ الْبَلَاءِ مَا هُوَ أَعْظَمُ مِنْهُ ، قُلْتُ : وَلِمَ ذَاكَ ؟ ! قَالَ : لِأَنَّ رَبَّكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى اتَّخَذَ فِي الْجَنَّةِ وَادِيًا مِنْ مِسْكٍ أَبْيَضَ ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ هَبَطَ مِنْ عِلِّيِّينَ عَلَى كُرْسِيِّهِ ، ثُمَّ حُفَّ الْكُرْسِيُّ بِمَنَابِرَ مِنْ ذَهَبٍ مُكَلَّلَةٍ بِالْجَوْهَرِ ، ثُمَّ جِيءَ بِالنَّبِيِّينَ فَيَجْلِسُونَ عَلَيْهَا ، ثُمَّ تُحَفُّ الْمَنَابِرُ بِكَرَاسِيَّ مِنْ نُورٍ ، ثُمَّ يَجِيءُ بِالشُّهَدَاءِ حَتَّى يَجْلِسُوا عَلَيْهَا ، وَيَنْزِلُ أَهْلُ الْغُرَفِ فَيَجْلِسُونَ عَلَى الْكَثِيبِ ، ثُمَّ يَتَجَلَّى لَهُمْ رَبُّهُمْ ، ثُمَّ يَقُولُ : سَلُونِي أُعْطِكُمْ ، فَيَسْأَلُونَهُ الرِّضَا ، فَيَقُولُ : رِضَائِي أُحِلُّكُمْ دَارِي ، وَأُنِيلُكُمْ كَرَامَتِي ، فَسَلُونِي أُعْطِكُمْ ، فَيَسْأَلُونَهُ الرِّضَا ، فَيُشْهِدُهُمْ أَنَّهُ قَدْ رَضِيَ عَنْهُمْ .
قِيلَ : فَيُفْتَحُ لَهُمْ مَا لَمْ تَرَ عَيْنٌ ، وَلَمْ تَسْمَعْ أُذُنٌ ، وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ، قَالَ : وَذَلِكُمْ مِقْدَارُ انْصِرَافِكُمْ مِنَ الْجُمُعَةِ ، قَالَ : ثُمَّ يَرْتَفِعُ مَعَهُ النَّبِيُّونَ وَالصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ ، وَيَرْجِعُ أَهْلُ الْغُرَفِ إِلَى غُرَفِهِمْ ، وَهِيَ دُرَّةٌ بَيْضَاءُ ، أَوْ دُرَّةٌ حَمْرَاءُ ، أَوْ زَبَرْجَدَةٌ خَضْرَاءُ مِنْهَا غُرَفُهَا وَأَبْوَابُهَا مُطَّرِدَةٌ أَنْهَارُهَا رَفِيعَةٌ ثِمَارُهَا مُتَدَلِّيَةٌ ، لَيْسَ فِيهَا غَمٌّ ، وَلَا هَمٌّ . قَالَ : فَلَيْسُوا عَلَى شَيْءٍ بِأَحْوَجَ مِنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ ; لِيَزْدَادُوا إِلَى رَبِّهِمْ نَظَرًا ، وَيَزْدَادُوا مِنْهُ كَرَامَةً .
673 \ 4 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، ثَنَا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، وَفِيهِ : وَنَحْنُ نَدْعُوهُ عِنْدَنَا يَوْمَ الْمَزِيدِ ، قُلْتُ : مَا الْمَزِيدُ ؟ قَالَ : إِنَّ اللهَ تَعَالَى جَعَلَ فِي الْجَنَّةِ وَادِيًا أَفْيَحَ ، وَجَعَلَ فِيهِ كُثْبَانًا مِنَ الْمِسْكِ ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ نَزَلَ فِيهِ ، وَقَالَ : اكْسُوا عِبَادِي ، أَطْعِمُوا عِبَادِي ، اسْقُوا عِبَادِي ، طَيِّبُوا عِبَادِي ، ثُمَّ يَقُولُ : مَاذَا تُرِيدُونَ ؟ قَالُوا : نُرِيدُ رِضْوَانَكَ رَبَّنَا ، فَيَقُولُ : قَدْ رَضِيتُ عَنْكُمْ ، فَيَنْطَلِقُونَ ، وَتَصْعَدُ الْحُورُ الْعِينُ إِلَى الْغُرَفِ مِنْ زَبَرْجَدَةٍ خَضْرَاءَ ، أَوْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ .
هَذَا آخِرُ الْحَدِيثِ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ ، وَإِسْنَادُهُ أَجْوَدُ مِنَ الْأَوَّلِ .
673 \ 5 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبَانَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا اجْتُنِبَتِ الْكَبَائِرُ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَإِنَّ الْجُمُعَةَ لَتُكَفِّرُ إِلَى الْجُمُعَةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، وَإِنَّ فِيهَا سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللهَ تَعَالَى فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ ، وَعُرِضَ عَلَيَّ الْأَيَّامُ ، فَرَأَيْتُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِيهَا كَأَنَّهَا مِرْآةٌ بَهَاءً وَنُورًا ، فَسَرَّنِي ، ثُمَّ رَأَيْتُ فِيهِ نُكْتَةً سَوْدَاءَ ، فَسَأَلْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فَقَالَ : هِيَ السَّاعَةُ الَّتِي تَقُومُ فِيهَا الْقِيَامَةُ .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام میرے پاس ایک چمکتا ہوا سفید آئینہ لے کر آئے جس میں ایک سیاہ نکتہ تھا، میں نے دریافت کیا کہ یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ یہ جمعہ کا دن ہے اور اس میں ایک خاص گھڑی (ساعتِ قبولیت) پوشیدہ ہے“۔ آپ ﷺ نے مزید فرمایا: ”میرے سامنے تمام ایام پیش کیے گئے تو ان میں جمعہ کا دن ایک حسین آئینے کی مانند تھا جس کے وسط میں ایک سیاہ نشان تھا، جب میں نے اس کے متعلق پوچھا تو بتایا گیا کہ یہ وہی خاص ساعت ہے“۔ ایک طویل روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام میرے پاس جمعہ کا تحفہ لائے تو میں نے اس کی حقیقت دریافت کی، انہوں نے بتایا کہ یہ آپ کے اور آپ کے بعد آپ کی امت کے لیے عید کا دن ہے جس میں یہودی اور نصاریٰ آپ کے پیچھے ہیں، اس دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ کوئی بھی مسلمان بندہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی جو بھی خیر مانگے گا، اللہ اسے عطا فرمائے گا—بشرطیکہ وہ اس کے نصیب میں ہو—ورنہ اس کے لیے اس سے بہتر چیز ذخیرہ کر دے گا یا اس سے کوئی بڑی مصیبت ٹال دے گا“۔ آپ ﷺ نے مزید بتایا کہ ”اللہ تعالیٰ نے جنت میں سفید مشک کی ایک وسیع وادی بنائی ہے جسے یومِ مزید کہا جاتا ہے، وہاں اللہ تعالیٰ اپنے تخت پر جلوہ افروز ہوگا، انبیاء مرصع منبروں پر اور شہداء نور کی کرسیوں پر ہوں گے، جبکہ اہل جنت مشک کے ٹیلوں پر آ بیٹھیں گے، اللہ ان سے فرمائے گا کہ مجھ سے مانگو، وہ اللہ کی رضا مانگیں گے اور اللہ اپنی رضا کا اعلان کرتے ہوئے انہیں وہ کچھ عطا فرمائے گا ”جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی بشر کے دل پر اس کا خیال گزرا“، جنت والے اپنے رب کے دیدار اور اس کی تکریم میں اضافے کے لیے جمعہ کے دن کے سب سے زیادہ حاجت مند ہوں گے“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ”پانچ نمازیں اور ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ درمیانی گناہوں کا کفارہ ہیں، بلکہ مزید تین دن کے گناہوں کی بھی معافی ہے، اور آئینے میں نظر آنے والا وہ سیاہ نکتہ اس گھڑی کی علامت ہے جس میں قیامت برپا ہوگی“۔
اس حدیث کی اسناد مختلف طرق سے مروی ہیں جن میں سے بعض دیگر کی نسبت زیادہ جید اور قوی ہیں۔