❮
❯
حدیث نمبر: 669
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ، ثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْظَلَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، وَهُمَا قَاعِدَانِ فِي الْمَسْجِدِ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ حَنْظَلَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : صَلَّى بِنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ، فَلَمْ يَقْرَأْ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى فَسَهَا ، فَلَمَّا قَامَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ، وَسُورَةٍ ، ثُمَّ عَادَ فَقَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ، وَسُورَةٍ ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ .
ترجمہ

ضمضم بن جوس سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا جبکہ وہ دونوں زوالِ آفتاب کے وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، تو سیدنا عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، تو وہ پہلی رکعت میں قراءت کرنا بھول گئے، چنانچہ جب وہ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو انہوں نے سورہ فاتحہ اور ایک سورت کی تلاوت کی، پھر دوبارہ (پہلی رکعت کی تلافی کے طور پر) سورہ فاتحہ اور ایک سورت کی تلاوت کی، پھر اپنی نماز جاری رکھی یہاں تک کہ اسے مکمل کر لیا، پھر انہوں نے سہو کے دو سجدے کیے۔“
اس روایت کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، یہ اثر صحیح ہے اور نماز میں قراءت بھول جانے کی صورت میں تلافی کے طریقہ کار پر دلالت کرتا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النوافل / حدیث: 669
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده يحتاج إلى متابع لحال عكرمة بن عمار. »
«أخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 3933، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 669، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 2748»