المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ السَّهْوِ باب: نماز میں بھول چوک (سہو) کے احکام و مسائل کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَّهُ نَهَضَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَسَبَّحُوا بِهِ ، فَاسْتَتَمَّ قَائِمًا ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ حَتَّى انْصَرَفَ ، قَالَ : كُنْتُمْ تَرَوْنَنِي أَجْلِسُ ، إِنِّي صَنَعْتُ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ .
668 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ عَمْرٌو : وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا رَفَعَهُ غَيْرَ أَبِي مُعَاوِيَةَ .
668 \ 3 - قَالَ : وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، فَذَكَرَهُ مَوْقُوفًا .
وَرَوَاهُ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُبَيْلٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ .سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ دو رکعتوں کے بعد (تشہد کے لیے بیٹھنے کے بجائے بھولے سے) کھڑے ہو گئے تو لوگوں نے انہیں متنبہ کرنے کے لیے سبحان اللہ کہا، لیکن وہ مکمل طور پر سیدھے کھڑے ہو گئے، پھر انہوں نے نماز مکمل کر کے سلام پھیرنے سے پہلے سہو کے دو سجدے کیے اور فرمایا: ”تمہارا خیال یہ تھا کہ میں بیٹھ جاؤں گا؟ بے شک میں نے ویسا ہی کیا ہے جیسا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کرتے ہوئے دیکھا تھا۔“
امام احمد بن منیع نے اسے ابو معاویہ کے واسطے سے نقل کیا ہے، اور عمرو بن محمد الناقد کہتے ہیں کہ میں نے ابو معاویہ کے علاوہ کسی اور کو نہیں سنا جس نے اس حدیث کو (نبی ﷺ کے فعل کے طور پر) مرفوعاً بیان کیا ہو۔
وکیع نے اسماعیل کے واسطے سے اسے موقوفاً (صحابی کا اپنا فعل) بیان کیا ہے۔
نیز اسے مغیرہ بن شبیل نے قیس کے واسطے سے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کیا ہے۔