المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ السَّهْوِ باب: نماز میں بھول چوک (سہو) کے احکام و مسائل کا بیان۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، ثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شِمَاسَةَ ، قَالَ : صَلَّى عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالنَّاسِ ، فَقَامَ عَنْ تَشَهُّدِهِ ، فَصَاحَ بِهِ النَّاسُ ، فَقَالُوا : سُبْحَانَ اللهِ ، سُبْحَانَ اللهِ ، فَصَلَّى كَمَا هُوَ ، فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ الَّذِي أَرَدْتُمْ ، وَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الْجُلُوسِ إِلَّا الَّذِي صَنَعْتُ مِنَ السُّنَّةِ .
667 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، قَالَ : إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِمَاسَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَامَ فِي صَلَاتِهِ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .عبدالرحمن بن شماسہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پس وہ (پہلے) تشہد کے لیے بیٹھنے کے بجائے (بھول کر) کھڑے ہو گئے، جس پر لوگوں نے انہیں متوجہ کرنے کے لیے بلند آواز سے «سُبْحَانَ اللهِ، سُبْحَانَ اللهِ» ”اللہ پاک ہے، اللہ پاک ہے“ کہا، مگر وہ اپنی حالت پر برقرار رہے اور نماز جاری رکھی، پھر جب انہوں نے اپنی نماز مکمل کر لی تو (سجدہ سہو کے) دو سجدے کیے، پھر فرمایا: ”اے لوگو! تم جو مجھے جتانا چاہتے تھے وہ مجھ پر مخفی نہیں تھا، اور مجھے (تشہد کے لیے) بیٹھنے سے کسی چیز نے نہیں روکا سوائے اس عمل کے جو میں نے سنت کی اتباع میں کیا (کہ قیام کی طرف بڑھنے کے بعد واپس نہیں مڑا جاتا)۔“
عبدالرحمن بن شماسہ سے ہی مروی ہے کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بھی اپنی نماز میں (اسی طرح تشہد چھوڑ کر) کھڑے ہو گئے تھے، پھر راوی نے اسی کی مثل واقعہ ذکر کیا۔