المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ السَّهْوِ باب: نماز میں بھول چوک (سہو) کے احکام و مسائل کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ طَرْخَانَ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ شَقِيقٍ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَسَجَدَ بِنَا سَجْدَتَيْنِ ، وَمَا رَأَيْنَا وَهْمًا ، فَلَمَّا سَلَّمَ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ ، قَالُوا : مَا رَأَيْنَا وَهْمًا ! قَالَ : إِنِّي حَدَّثْتُ نَفْسِي .حمید بن طرخان سے روایت ہے کہ عبداللہ بن شقیق نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی تو انہوں نے (نماز کے آخر میں) ہمیں دو سجدے (سجدہ سہو کے) کرائے، حالانکہ ہمیں ان کی نماز میں کسی قسم کا سہو یا بھول چوک نظر نہیں آئی تھی۔ چنانچہ جب انہوں نے سلام پھیرا تو لوگوں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا اور کہا کہ ”ہمیں تو (آپ کی نماز میں) کوئی سہو یا غلطی محسوس نہیں ہوئی (پھر آپ نے یہ سجدے کیوں کیے)؟“ انہوں نے جواب دیا: ”درحقیقت (نماز کے دوران) میں اپنے جی میں باتیں کرنے لگا تھا (یعنی میرا دھیان بھٹک گیا تھا، اس لیے احتیاطاً یہ سجدے کیے)۔“
اس اثر کی سند صحیح ہے اور اس میں نماز کے دوران وساوس یا خیالات کی آمد پر سجدہ سہو کرنے کے حوالے سے جلیل القدر تابعی کے طرزِ عمل کا بیان ہے۔