❮
❯
حدیث نمبر: 666
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ طَرْخَانَ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ شَقِيقٍ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَسَجَدَ بِنَا سَجْدَتَيْنِ ، وَمَا رَأَيْنَا وَهْمًا ، فَلَمَّا سَلَّمَ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ ، قَالُوا : مَا رَأَيْنَا وَهْمًا ! قَالَ : إِنِّي حَدَّثْتُ نَفْسِي .
ترجمہ

حمید بن طرخان سے روایت ہے کہ عبداللہ بن شقیق نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی تو انہوں نے (نماز کے آخر میں) ہمیں دو سجدے (سجدہ سہو کے) کرائے، حالانکہ ہمیں ان کی نماز میں کسی قسم کا سہو یا بھول چوک نظر نہیں آئی تھی۔ چنانچہ جب انہوں نے سلام پھیرا تو لوگوں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا اور کہا کہ ”ہمیں تو (آپ کی نماز میں) کوئی سہو یا غلطی محسوس نہیں ہوئی (پھر آپ نے یہ سجدے کیوں کیے)؟“ انہوں نے جواب دیا: ”درحقیقت (نماز کے دوران) میں اپنے جی میں باتیں کرنے لگا تھا (یعنی میرا دھیان بھٹک گیا تھا، اس لیے احتیاطاً یہ سجدے کیے)۔“
اس اثر کی سند صحیح ہے اور اس میں نماز کے دوران وساوس یا خیالات کی آمد پر سجدہ سہو کرنے کے حوالے سے جلیل القدر تابعی کے طرزِ عمل کا بیان ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النوافل / حدیث: 666
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :موقوف، إسناده صحيح. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»