المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ حُكْمِ تَارِكِ الصَّلَاةِ باب: نماز ترک کرنے والے کے شرعی حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 665
أَخْبَرَنَا الْمَوْصِلِيُّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ : فِيمَنْ يَقُولُ : الصَّلَاةُ مِنْ عِنْدِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا أُصَلِّيهَا : يُضْرَبُ عُنُقُهُ مِنْ هَا هُنَا ، - وَأَشَارَ إِسْحَاقُ إِلَى قَفَاهُ - لَيْسَ بَيْنَ الْأَئِمَّةِ فِيهِ خِلَافٌ .ترجمہ
امام ایوب سختیانی رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں روایت ہے جو یہ کہتا ہے کہ ”نماز اللہ عزوجل کی طرف سے (فرض) ہے لیکن میں اسے ادا نہیں کروں گا“، تو انہوں نے فرمایا کہ ”اس کی گردن یہاں سے مار دی جائے گی“ اور (یہ کہتے ہوئے راوی) اسحاق نے اپنی گدی کی طرف اشارہ کیا، (نیز فرمایا کہ) ”اس حکم میں ائمہ دین کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے“۔
یہ اثر اس شخص کے متعلق ہے جو نماز کی فرضیت کا اقرار تو کرے مگر اسے ادا کرنے سے صریح انکار کر دے، ایسا شخص ائمہ کے نزدیک واجب القتل ہے اور اس پر اجماع نقل کیا گیا ہے۔