المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ حُكْمِ تَارِكِ الصَّلَاةِ باب: نماز ترک کرنے والے کے شرعی حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 664
أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ثَنَا إِيَادُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، قَالَا : سَمِعْتُ مَكْحُولًا ، يَقُولُ فِيمَنْ يَقُولُ : الصَّلَاةُ مِنْ عِنْدِ اللهِ تَعَالَى ، وَلَا أُصَلِّيهَا ، وَالزَّكَاةُ مِنْ عِنْدِ اللهِ وَلَا أُزَكِّيهَا ، قَالَ : يُسْتَتَابُ ، فَإِنْ تَابَ وَإِلَّا قُتِلَ .ترجمہ
امام مکحول رحمہ اللہ سے اس شخص کے متعلق مروی ہے جو یہ کہتا ہے: ”نماز اللہ تعالیٰ کی جانب سے برحق ہے لیکن میں اسے ادا نہیں کروں گا، اور زکوٰۃ اللہ تعالیٰ کی طرف سے برحق ہے لیکن میں اسے نہیں دوں گا“، تو انہوں نے فرمایا: ”ایسے شخص سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا، پس اگر وہ توبہ کر لے تو بہتر، ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا۔“
اس اثر کی سند حسن ہے، اسے امام ابن ابی شیبہ نے المصنف میں اور امام آجری نے الشریعہ میں روایت کیا ہے، یہ اس شخص کے حکم میں ہے جو فرائض کا اقرار تو کرے مگر ان پر عمل سے انکار کر دے۔