المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الضُّحَى باب: چاشت کی نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 661
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ : يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالإِشْرَاقِ قَالَ : هَذِهِ صَلَاةُ الْإِشْرَاقِ ، يَعْنِي : ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ أَوَّلَ النَّهَارِ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب وہ اس آیتِ مبارکہ ﴿يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ﴾ [سورة ص: 18] پر پہنچے تو انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد صلاۃ الاشراق (اشراق کی نماز) ہے، یعنی دن کے ابتدائی حصے میں ادا کی جانے والی آٹھ رکعتیں۔“
اس اثر کی سند میں یزید بن ابی زیاد راوی ضعیف ہے، تاہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی مفہوم دیگر مستند ذرائع اور اسانید سے بھی مروی ہے جو اس کی تائید کرتے ہیں۔