المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الضُّحَى باب: چاشت کی نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 660
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، ثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الضُّحَى ، حَتَّى لَا يُرَى أَنَّهُ تَرَكَهَا ، وَيَتْرُكُهَا حَتَّى لَا يُرَى أَنْ يُصَلِّيَهَا .ترجمہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی کریم ﷺ نمازِ چاشت (صلوٰۃ الضحیٰ) اس ہمیشگی اور پابندی سے ادا فرماتے کہ گمان ہونے لگتا کہ آپ ﷺ اب اسے کبھی نہیں چھوڑیں گے، اور کبھی اسے اس تواتر سے ترک فرما دیتے کہ محسوس ہونے لگتا کہ شاید اب آپ ﷺ اسے کبھی ادا نہیں فرمائیں گے۔“
[تخريج: اسے امام ترمذی نے اپنی سنن (477) میں روایت کر کے حسن غریب قرار دیا ہے، تاہم اس کی سند میں موجود راوی عطیہ عوفی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے جس کی بنا پر علامہ البانی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے]۔